کولکتہ 19/اگست (راست/ایاز احمد روہوی) گزشتہ 15 اگست کی شب ہمایوں کبیر انسٹی ٹیوٹ (کلکتہ) میں ملک کے 70 ویں جشن آزادی کے موقع پر منعقدہ سالانہ مشاعرہ بزرگ شاعر جمال احمد جمال (مروئی والا) کے زیر صدارت توقع سے زیادہ کامیاب ثابت ہوا۔ اس مشاعرہ میں سامعین کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور شعرائے کرام کو داد و تحسین سے نواز کر مشاعرے کو یادگار بنانے میں اہم رول ادا کیا۔
مشاعرے کا باضابطہ آغاز راقم الحروف کے افتتاحی کلمات سے ہوا۔ نقیب مشاعرہ جناب ضمیر یوسف نے ملک کی آزادی میں اردو شاعری کا حصہ اور ہزاروں علمائے کرام کی شہادت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سامعین کو آزادی کی 70 ویں سالگرہ کی مبارکباد دی نیز ہمایوں کبیر انسٹی ٹیوٹ کی مجلس منتظمہ کی اردو دوستی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ شہر کا ایک ایسا قدیم ملی، سماجی اور فلاحی ادارہ ہے جو بغیر کسی نام و نمود کے انتہائی خاموشی سے اپنی تہذیبی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ اس میں روز افزوں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے اس تہذیبی اور روایتی مشاعرے میں کل 17 شعرائے کرام نے شرکت کی جن کے اسمائے گرامی ہیں: جمال احمد جمال، حلیم صابر، ضمیر یوسف، اقبال طالب، فراغ روہوی، اکبر حسین اکبر، ارشاد آرزو، ریحانہ نواب، مشتاق دربھنگوی، نسیم فائق، شگفتہ یاسمین غزل، نظیر راہی، ارم انصاری، احمد معراج، سہیل خان سہیل، بشریٰ سحر اور شہنور حسین شبنم۔ مشاعرے کو کامیاب بنانے میں ادارہ کے نائب صدر اور لٹریری سیکشن کے چیئرمین کوثر احمد، جنرل سکریٹری محمد عزیز الحق، سوشل سکریٹری محمد انور، لائبریری سکریٹری اکرام حسین، خازن نیاز الدین احمد، محمد انیس الدین، تمیز الدین کے علاوہ جملہ اراکین و اسٹاف پیش پیش رہے۔